خیر اب آپ خود سوچیں میں دوسروں کو کیا مشورہ دوں گا
خرم شہزاد خرم
اے وطن اب اجازت ملے گی مجھے
چھوڑ کر شہر اپنا سفر کر چلوں
دل دھڑکتا رہے آنکھ روتی رہے
میں خموشی سے اپنے نئے گھر چلوں
دن بہت کم ہے کسی بھی نئی جگہ جانا انسان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اور اگر نئی جگہ اپنے وطن سے بھی دور ہو تو پھر بہت ہی مشکل ہوتا ہے ۔ آج کل میں بہت اداس ہوں نجانے کیوں ایسے حالات پیدا ہو گے کہ مجھے پاکستان سے جانا پڑ گیا سب تسلی تو دے رہے ہیں کہ اپنے مستقبل کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ میرا مستقبل کتناہے میں کب تک زندہ رہوں گا۔ خیر اپریل کی پہلی یا دوسری تاریخ کو میں پاکستان کو چھوڑ کا ابوظہبی جا رہا ہوں جہاں زینب آپی اور سلیمان جاذب رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کون رہتا ہے یہ نہیں جانتا۔ میں وہاں جا کر آپ سب سے رابطہ رکھنے کی کوشش کروں گا اگر تو نیٹ کی سہولت ہوئی تو پھر بہت اچھا ہو گا اور اگر سہولت نا ہوئی تو پھر کبھی کبھی آپ سے رابطہ ہوا کریں گا آپ سب کے ساتھ میرا بہت اچھا وقت گزرا میں سے سے درخواست کرتا ہوں اتنے عرصے میں اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گی ہو ۔ کوئی غلطی کیا غلطیاں ہوئی ہونگی سب سے درخواست کرتا ہوں مجھے معاف کر دیجئے گا اور میرے لیے دعا کیجئے گا یہاں مجھے بہت محبت ، پیاری اور اچھے دوست اور استاد ملے جن کی مدد سے میں خود کو انسان بنانے کی کوشش میں لگ گیا ۔
میں نے لکھنا کچھ تھا اور لکھ کچھ گیا ہوں ۔ مجھ سے کچھ لکھنے نہیں ہو رہا
اللہ حافظ
خرم شہزاد خرم
مجھے جس سمت سے بھی تشنگی محسوس ہوتی ہے
تمہاری ہی فقط مجھکو کمی محسوس ہوتی ہے
جہاں بھی زرد موسم میں ہوا کا شور ہوتا ہے
نجانے کیوں مجھے وہ زندگی محسوس ہوتی ہے
اِسے تاریک سب کہتے ہین لیکن مجھ کو جانے کیوں
اندھیری رات میں بھی روشنی محسوس ہوتی ہے
میں گو محتاط ہو جاتا ہوں اکثر شام ڈھلتے ہی
مگر پھر بھی ان آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے
یوں موسم تو بدلتے ہیں مگر یہ بھی سنو خرم
کسی کی یاد ہے، دل میں جمی محسوس ہوتی ہے
خرم شہزاد خرم
گر گیا تیز ہواؤں سے اگر طیاروہ
پکڑا جاتا ہے مسلمان یہاں بے چارا
کبھی گھورا ، کبھی تاڑا تو کبھی للکارا
کبھی“ سب وے” سے اٹھایا،کبھی چھاپہ مارا
تو نے یہ کہہ کے جہازوں کو کراچی بھیجا
یہ بھی شکلاََ ہے مسلمان اسے بھی لے جا
میڈیا تیرا، دوات اور قلم تیرے ہیں
جتنے بھی ملک ہیں ڈالر کی قسم تیرے ہیں
یہ شہنشاہِ یہ اربابِ حرم تیرے ہیں
تیرا دینار، ریال اور درہم تیرے ہیں
تو نے جب بھی کبھی مانگا ہے تجھے تیل دیا
تجھ کو جب موقع لگا تو نے ہمیں پیل دیا
حالتِ جنگ میں ہم لوگ ترے ساتھ رہے
تاکہ دنیا کی قیادت میں تری بات رہے
یہ ضروری تھا کہ تجدیدِ ملاقات رہے
دیکھئے کتنے برس چشمِ عنایات رہے
ہم ترے سب سے بڑے حلقہء اخباب میں ہیں
پھر بھی طوفاں سے نکلتے نہیں گرداب میں ہیں
“ایڈ“ دیتا ہے تری حوصلہ افزائی ہے
تیرا یہ دستِ کرم سود کا سودائی ہے
اسلحہ دے کے جو غیروں سے شناسائی ہے
یہ بھی اسلام کے دشمن کی پذیرائی ہے
رحمتیں ہیں تری ہر قوم کے انسانوں پر
چھاپہ پڑتا ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
خرم شہزاد خرم
پیارے دوست زین بھائی نے کہا تھا یار غزل کے علاوہ بھی کچھ لکھے ارے بھائی ہماری غزل کسی سے برداشت نہیں ہوتی مطلب وہ سننے کے قابل نہیں ہوتی تو نثر اللہ معاف کرے۔خیر
[SIZE="5"]لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے مگر کیوں لکھے ؟ [/SIZE]
میرے علاوہ بھی بہت سے دوست ایسے ہونگے جو لکھنا چاہتے ہونگے جو بہت اچھا لکھ سکتے ہیں جن کو لکھنے کا شوق بھی ہے لیکن وہ نہیں لکھتے اس کی میرے نزدیک کچھ وجوہات ہیں جو میں یہاں بیان کروں گا۔
میں نے اپنے ایک دوست سے اس بارے میں بات کی کہ بھائی آپ اتنا اچھا لکھتے تھے اب آپ نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا ہے تو جواب ملا جناب لکھنے کے لیے تو میرے پاس بہت کچھ ہیں لیکن کیوں لکھے؟ کس کے لیے لکھے ؟ کیا یہاں کوئی پڑھنے والا ہے کوئی ایک ایسا ہو جو پڑھنے کے لیے تیار ہو ۔ آپ خود اندازہ کریں ہر طرف لکھنے والے موجود ہیں لیکن پڑھنے والے کم ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پڑھنے والے کیوں کم ہے اور لکھنے والے کیوں زیادہ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے اب تحریروں کا میعار نہیں دیکھا جاتا بلکے تحریر کار کو دیکھا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں دیکھ لے کتابیں بہت سی ہیں۔ ایک لکھاری نے 5،5 کتابیں لکھیں ہوئی ہیں لیکن اس لکھاری کا نام بھی کسی کو پتہ نہیں ہوتا وہ اپنے حلقے میں جانا جاتا ہے بہت کم لکھاری ایسے ہیں جو اچھا لکھتے ہیں جن کی تحریروں کا لوگ انتظار کرتے ہیں۔ لیکن ان کی تحریریں بہت مشکل کے بعد مارکیٹ میں کتابی شکل میں آتی ہیں۔ اس وقت اخبارات ، میگزیں ، رسالے ، ٹی وی ، ریڈیو، وغیرہ جہاں جہاں بھی دیکھا جائیں صرف اور صرف وہی لوگ نظر آتے ہیں جو ان کے اپنے ہوتے ہیں۔ یہاں تو کام کے بدلے کام لیا جاتا ہے۔ میعار نہیں دیکھا جاتا ۔
بھائی ایسی بات نہیں میں اب بھی لکھتا ہوں لیکن کسی کے لیے نہیں اپنے لیے اور وہ سب کچھ میری ڈائریں میں ہے
خرم شہزاد خرم
ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابنِ انشاء
ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔!
ہم اس پر لکھیں نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں
پیغام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں
اشعار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں
سرکارنہیں
ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے
دل کا جو تمھارے صفحہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!
وہ آج جو بالکل سادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اُس پہ بھی تو ہم نے لکھا تھا۔۔۔۔۔۔
اک نام کبھی۔۔۔۔
پیغام کبھی۔۔۔۔۔
اشعار کبھی۔۔۔۔۔
سرکار کبھی۔۔۔۔
وہ صفحہ تم نے دھو ڈالا۔۔۔
وہ صفحہ بالکل سادہ ہے۔۔۔
اب کاغذ کے اس ٹکرے کو
کیوں لاکر آگےر کھتی ہو۔۔۔۔۔؟
کیوں ،نام ، پیام ، اشعار لکھیں؟
ہم لوگ تو جو سرکار لکھیں۔۔۔۔۔
اک بار لکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔!
ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابنِ انشاء
حاليہ آراء