نوکری۔۔۔۔۔

خرم شہزاد خرم کی تحریریں 2 آراء »
نوکری۔۔۔۔۔

میں نے سنا تھا نوکری حاصل کرنی اور نوکری چھوڑنی بہت مشکل ہوتی ہے ۔ نوکری حاصل کرنے میں تو اللہ کے فصل سے مجھے کوئی پرشانی نہیں ہوئی۔ لیکن نوکری چھوڑنے میں بہت مسئلہ ہو رہا ہے میں نے اپنی زندگی میں دو جگہ نوکری کی ہے ایک چاندنی چوک میں ٹیک مین ورکشاپ پر اور دوسرا نسٹ یونیورسٹی میں دونوں جگہ نوکری تو آسانی سے مل گی لیکن نوکری چھوڑنا میرے لیے مسئلہ بن گیا آج بھی یہی مسئلہ ہے۔ انسان بہتر سے بہترین کی طرف جاتا ہے میں چاندنی چوک سے نسٹ میں اور اب ابوظہبی جا رہا ہوں ابو ظہیبی جانے کے لیے تمام کام مکمل ہو گے ہیں لیکن اب نوکری چھوڑنے کا مسئلہ بنا ہوا ہے میں چاہتا تو بتائے بغیر چلا جاتا لیکن چار سال ہو گے مجھے یہاں نوکری کرتے ہوئے سوچا اتنے عرصہ اچھی طرح نوکری کی ہے تو اب جانا بھی اچھی طرح چاہے لیکن یہ لوگ نہیں چاہتے کہ ان سے کوئی اچھی طرح خدا حافظ کرے یہ چاہتے ہیں بس گالیاں نکالتا ہوا چلے جائے ۔ اب میں نے ان کو بتا دیا ہے کہ میں نوکری چھوڑ رہا ہوں اور سرکاری طریقہ سے جانا چاہتا ہوں اس کے لیے درخواست بھی دے دی ہے لیکن اب کبھی کچھ مسئلہ کھڑا کر دیتے ہیں اور کھبی کچھ دل تو کرتا ہے ؟؟؟
خیر اب آپ خود سوچیں میں دوسروں کو کیا مشورہ دوں گا
خرم شہزاد خرم

Share This Post

اے وطن اب اجازت ملے گی مجھے

خرم شہزاد خرم کی تحریریں 2 آراء »

اے وطن اب اجازت ملے گی مجھے
چھوڑ کر شہر اپنا سفر کر چلوں

دل دھڑکتا رہے آنکھ روتی رہے
میں خموشی سے اپنے نئے گھر چلوں

دن بہت کم ہے کسی بھی نئی جگہ جانا انسان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اور اگر نئی جگہ اپنے وطن سے بھی دور ہو تو پھر بہت ہی مشکل ہوتا ہے ۔ آج کل میں بہت اداس ہوں نجانے کیوں ایسے حالات پیدا ہو گے کہ مجھے پاکستان سے جانا پڑ گیا سب تسلی تو دے رہے ہیں کہ اپنے مستقبل کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ میرا مستقبل کتناہے میں کب تک زندہ رہوں گا۔ خیر اپریل کی پہلی یا دوسری تاریخ کو میں پاکستان کو چھوڑ کا ابوظہبی جا رہا ہوں جہاں زینب آپی اور سلیمان جاذب رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کون رہتا ہے یہ نہیں جانتا۔ میں وہاں جا کر آپ سب سے رابطہ رکھنے کی کوشش کروں گا اگر تو نیٹ کی سہولت ہوئی تو پھر بہت اچھا ہو گا اور اگر سہولت نا ہوئی تو پھر کبھی کبھی آپ سے رابطہ ہوا کریں گا آپ سب کے ساتھ میرا بہت اچھا وقت گزرا میں سے سے درخواست کرتا ہوں اتنے عرصے میں اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گی ہو ۔ کوئی غلطی کیا غلطیاں ہوئی ہونگی سب سے درخواست کرتا ہوں مجھے معاف کر دیجئے گا اور میرے لیے دعا کیجئے گا یہاں مجھے بہت محبت ، پیاری اور اچھے دوست اور استاد ملے جن کی مدد سے میں خود کو انسان بنانے کی کوشش میں لگ گیا ۔
میں نے لکھنا کچھ تھا اور لکھ کچھ گیا ہوں ۔ مجھ سے کچھ لکھنے نہیں ہو رہا
اللہ حافظ
خرم شہزاد خرم

Share This Post

مجھے جس سمت سے بھی تشنگی محسوس ہوتی ہے

خرم شہزاد خرم کی شاعری 4 آراء »

مجھے جس سمت سے بھی تشنگی محسوس ہوتی ہے
تمہاری ہی فقط مجھکو کمی محسوس ہوتی ہے

جہاں بھی زرد موسم میں ہوا کا شور ہوتا ہے
نجانے کیوں مجھے وہ زندگی محسوس ہوتی ہے

اِسے تاریک سب کہتے ہین لیکن مجھ کو جانے کیوں
اندھیری رات میں بھی روشنی محسوس ہوتی ہے

میں گو محتاط ہو جاتا ہوں اکثر شام ڈھلتے ہی
مگر پھر بھی ان آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے

یوں موسم تو بدلتے ہیں مگر یہ بھی سنو خرم
کسی کی یاد ہے، دل میں جمی محسوس ہوتی ہے

خرم شہزاد خرم

Share This Post

اتنی بے کار رات لگتی ہے

خرم شہزاد خرم کی شاعری رائے ديں »

اتنی بے کار رات لگتی ہے
مجھ کو میری ہی ذات لگتی ہے

وہ ہر اک کی ہے آنکھ کا تارا
اس میں کوئی تو بات لگتی ہے

یہ مرے گھر میں شور ہے کیسا
کچھ دکھوں کی برات لگتی ہے

حادثوں میں بھی ڈر نہیں لگتا
اک دعا ماں کی سات لگتی ہے

روشنی اس کے گھر میں ہے خرم
میرے حصے میں رات لگتی ہے

خرم شہزاد خرم

Share This Post

اتفاقاً کسی سے ملتا ہے

خرم شہزاد خرم کی شاعری رائے ديں »

اتفاقاً کسی سے ملتا ہے
وہ بہت بے دلی سے ملتا ہے

دل میں لازم ہے نور کا ہونا
راستہ روشنی سے ملتا ہے

اس کی جب شکل دیکھتا ہوں میں
وہ تو ہر آدمی سے ملتا ہے

اس میں تھی سادگی تو پہلے بھی
اب بھی وہ سادگی سے ملتا ہے

یوں تو پیاری ہے زندگی کتنی
غم بھی خرم اسی سے ملتا ہے

خرم شہزاد خرم

Share This Post

جوتوں کی پریس کانفرنس

خرم شہزاد خرم کی تحریریں 7 آراء »
 

راولپنڈی کے موچی بازار کے تمام جوتوں نے مل کر ایک پریس کانفرنس کی جس کی قیادت عراق سے آئے ہوئے زیدی کے پاؤں سے نکلے ہوئے جوتے کے بیٹے نے کی۔ پریس کانفرنس سے پہلے عراق سے آئے ہوئے مہمان جوتے کا بہترین استقبال کیا گیا۔ اور اس کے بعد جوتے کو بش کی تصویر کے اوپر سے گزارا گیا۔ زیدی کی یادتازہ کرنے کے لیے وہی ویڈیو دیکھائی گی۔ اس کے بعد موچی بازار کی مین روڈ پر مہمان جوتے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا۔ جیسا کے آپ سب جانتے ہیں عراق کے واقع کے بعد ہمیں عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں ۔ ہم اپنا ایک نام اور مقام رکھتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر افسوس ہے کہ ہم اپنا ہدف حاصل نہ کر سکے لیکن آج ہم اس میڈیا کی مدد سے بتانا چاہتے ہیں کہ تمام حکمران اپنے اپنے فرائض کو یاد رکھے اور عوام کو ان کا حق ادا کریں۔ ورنہ حالات کے مطابق ہمٰں بھی کوئی قدم اٹھانا پڑے گا۔ ہم نے نوجوان جوتوں کی ایک کمیٹی بنا رکھی ہے جب کا صرف اور صرف یہ کام ہے کہ وہ اپنے انے ہدف یاد رکھے اور حکم ملتے ہی نشانے پر جا لگے اور یاد رکھے اس دفعہ نشانہ خطا نہیں‌جاے گا۔ ابھی اس وقت ہماری ہٹ لیسٹ پر علاقے کے نا ظمین ، ایم این اے، وزیرِ عالیٰ ، وزیرِ اعظم اور صدر حضرات ہیں۔ چونکہ اس وقت ہم پاکستان میں ہیں تو اس لیے پہلے پاکستان کی ہی بات کرے گے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کے پاکستان کی غریب عوام کے مسائل حل کرے۔ جن میں غربت ، بے روزگاری ، بجلی، گیس اور پانی کے مسائل بہت اہم ہیں۔ ان کی طرف جلد سے جلد غور کیاجائے ورنہ یہ بھی یاد رکھاجائے کے جو جوتے جن جن حکمرانوں کے پاؤں میں ہیں وہ سر تک بھی آسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک مسئلہ بہت اہم ہیں جو خاص کر ہماری ذات سے ہیں عوام کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی خیال کیا جائے۔ وہ مسئلہ یہ ہے کہ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے لوگوں نے ہمیں پالش کرنا چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے ہماری شکل و صورت امریکن ، یورپین ، بارطانیوں اور اسائیلی حکمرانوں کی طرح ہوگی ہے۔ جو ہم ہرگز ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ مہنگائی اور غربت کے مسائل حل کیے جائے تانکہ ہمیں ہماری شکل واپس مل سکے ۔ ہم دینا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کے جو جوتا دنیا کے کسی بھی ملک کے باشندے کے پاؤں میں ہے۔ وہ اگر بش کے سر پر پڑسکتا ہے تو پھر کسی کے بھی سر پر پڑ سکتا ہے لحاطہ امن و امان قائم کیا جائے اور غریب کے مسائل حل کئے جائے، پانی ،گیس اور بجلی کے مسائل جلد ختم ہونے چاہے ورنہ سب حکمرانوں کا وہی حال ہو گا جو بش کا ہوا ہےخرم شہزاد خرم
خاموش قلم
راولپنڈی

Share This Post

پاک ڈاٹ نیٹ سے لی گئی ایک سیاسی نظم (امریکہ، مسلمان اور پاکستانی)

خرم شہزاد خرم کا انتخاب 2 آراء »

ہم نے رکھی ہے یہاں امن و اماں کی بنیاد
ہر مسلمان کو “یو ایس” میں پڑی ہے افتاد
اپنی فطرت میں نہیں دہشت و نگاو فساد
پھر بھی ہم نے ترے شہروں کو کیا ہے آبادہر مسلماں ہے یہاں امن کا حامی دیکھو
ہیوسٹن جاؤ ، ایل اے دیکھو ، میامی دیکھو

گر گیا تیز ہواؤں سے اگر طیاروہ
پکڑا جاتا ہے مسلمان یہاں بے چارا
کبھی گھورا ، کبھی تاڑا تو کبھی للکارا
کبھی“ سب وے” سے اٹھایا،کبھی چھاپہ مارا

تو نے یہ کہہ کے جہازوں کو کراچی بھیجا
یہ بھی شکلاََ ہے مسلمان اسے بھی لے جا

میڈیا تیرا، دوات اور قلم تیرے ہیں
جتنے بھی ملک ہیں ڈالر کی قسم تیرے ہیں
یہ شہنشاہِ یہ اربابِ حرم تیرے ہیں
تیرا دینار، ریال اور درہم تیرے ہیں

تو نے جب بھی کبھی مانگا ہے تجھے تیل دیا
تجھ کو جب موقع لگا تو نے ہمیں پیل دیا

حالتِ جنگ میں ہم لوگ ترے ساتھ رہے
تاکہ دنیا کی قیادت میں تری بات رہے
یہ ضروری تھا کہ تجدیدِ ملاقات رہے
دیکھئے کتنے برس چشمِ عنایات رہے

ہم ترے سب سے بڑے حلقہء اخباب میں ہیں
پھر بھی طوفاں سے نکلتے نہیں گرداب میں ہیں

“ایڈ“ دیتا ہے تری حوصلہ افزائی ہے
تیرا یہ دستِ کرم سود کا سودائی ہے
اسلحہ دے کے جو غیروں سے شناسائی ہے
یہ بھی اسلام کے دشمن کی پذیرائی ہے

رحمتیں ہیں تری ہر قوم کے انسانوں پر
چھاپہ پڑتا ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

Share This Post

چاندنی چوک (راولپنڈی والا)

خرم شہزاد خرم کی تحریریں 5 آراء »
چاندنی چوک (راولپنڈی والا)

اس بات کا تو مجھے پتہ نہیں اس چوک کا نام چاندنی چوک کیوں پڑا تھا لیکن مجھے اتنا پتہ ہے دنیا میں دو چاندنی چوک ہیں ایک پاکستان میں اور دوسرا ہندوستان میں (اس کے علاوہ بھی ہو سکتےہیں جب کا مجھے پتہ نہیں) چونکہ میں پاکستان میں ہوں اس لے پاکستانی چاندنی چوک کی ہی بات کروں گا چاندنی چوک پاکستان کے شہر راولپنڈی میں واقع ہیں مری روڑ پر صدر کی طرف سے آتے ہوئے ناز سینما سے کچھ آگے پہلا مکمل چوک چاندنی چوک کے نام سے مشہور ہے کل اتفاقاََ میرا وہاں جانا ہوا ۔ تو مجھے یاد آیا کہ 2000 میں پہلی دفعہ چاندنی چوک گیا تھا اور اس کے بعد پانچ سال تک وہی رہا۔ اصل میں میں چاندی چوک پر واقع ’’ٹیک مین“ کے نام سے پرائیویٹ ورکشاپ پر فوٹو سٹیٹ مشینوں کا کام سیکھنے کے لیے گیا تھا جہاں میرے استاد جناب قاصی تنویر السلام صاحب اس ورکشاپ کے مالک تھے میں نے ان کے پاس پانچ سال کام کیا ان کے مطابق ان کی زندگی میں میں تیسرا شاگرد تھا جس نے ان کے پاس پانچ سال تک کام کیا باقی ان کی سختی کی وجہ سے سب بھاگ گے تھے۔ ورکشاب والی گلی میں سب سے پہلی دوکان جمبو کلرلیب تھی جہاں سے میں اکثر تصویریں بنوایا کرتا تھا جمبو کلرلیب کے ساتھ ہی ایک بیکری تھی جس کا نام مجھے یاد نہیں اس کے باہر ایک شخص اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مل کر برگر لگایا کرتا تھا اس کو سب ماموں کہتے تھے اس لے اس کا نام ہی ماموں برگر پڑ گیا۔ چاندی چوک کے سب سے مشہور برگر تھے اور لوگ بہت دور دور سے ماموں کے پاس برگر کھانے آتے تھے اس وقت اس برگر کی قیمت 28 روپے تھی اب پتہ نہیں کتنی ہو گی اصل میں چار سال بعد جب میں چاندنی چوک گیا تو میری ایک عجیب سی کیفیت ہو گی وہ جو لوگ تھے جن کو میں جانتا تھا ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا سب سے پہلے قاضی صاحب کی ورکشاپ پر گیا تو کیا دیکھا اس کا تو نام و نشان ہی نہیں ہے پوچھنے پر پتہ چلا کہ کاروبار ختم کر کے وہ کہی چلے گے ہیں۔ اس کے بعد جب میں واپس ہونے لگا تو سوچا کیوں نا ماموں برگر والے سے برگر کھایا جائے اور پورانی یاد تازہ کی جائے لیکن جب میں وہاں پونچا تو ایک عجیب ہی معاملہ دیکھا جہاں ایک ماموں کا برگر کا کھوکھا ہوتا تھا آج وہاں دو تھے۔ ایک پر لکھا تھا ”ماموں برگر اصل ماموں برگر یہی ہے ہماری کوئی برانچ نہیں ہے“ اور ساتھ ہی دوسرے پر لکھا تھا ” نیو ماموں برگر“ اب میں سوچنے لگا دونوں میں سے اصل کون ہے لیکن کچھ اندازہ نہیں‌ہوا پھر میں نے ماموں کے بارے میں جمبو کلر لیب کے سکورٹی گارڈ سے پوچھا تو اس نے بتایا ماموں کا تو انتقال ہو گیا ہے اور یہ دونوں اس کے بیٹے ہیں جنوں نے ماموں کے مرنے کے بعد الگ الگ کام شروع کر دیا ہے۔
یہ بات سن کر مجھے بہت افسوس ہوا ہم میں کون سی ایسی بات ہے جو بھائی کو بھائی سے الگ کر دیتی ہے جب تک والدین زندہ ہوتے ہیں سب اتفاق سے رہتے ہیں لیکن والدین کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہمیں کیا ہو جاتا ہے ہم کیوں ایسا کرتے ہیں ہم اپنے بھائیوں سے دور کیوں ہو جاتے ہیں یہ سب سن کر میں وہی سے واپس ہو گیا ماموں برگر کھائے بغیر

خرم شہزاد خرم

Share This Post

لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے مگر کیوں لکھے ؟

خرم شہزاد خرم کی تحریریں 9 آراء »

پیارے دوست زین بھائی نے کہا تھا یار غزل کے علاوہ بھی کچھ لکھے ارے بھائی ہماری غزل کسی سے برداشت نہیں ہوتی مطلب وہ سننے کے قابل نہیں ہوتی تو نثر اللہ معاف کرے۔خیر

[SIZE="5"]لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے مگر کیوں لکھے ؟ [/SIZE]

میرے علاوہ بھی بہت سے دوست ایسے ہونگے جو لکھنا چاہتے ہونگے جو بہت اچھا لکھ سکتے ہیں جن کو لکھنے کا شوق بھی ہے لیکن وہ نہیں لکھتے اس کی میرے نزدیک کچھ وجوہات ہیں جو میں یہاں بیان کروں گا۔
میں نے اپنے ایک دوست سے اس بارے میں بات کی کہ بھائی آپ اتنا اچھا لکھتے تھے اب آپ نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا ہے تو جواب ملا جناب لکھنے کے لیے تو میرے پاس بہت کچھ ہیں لیکن کیوں لکھے؟ کس کے لیے لکھے ؟ کیا یہاں کوئی پڑھنے والا ہے کوئی ایک ایسا ہو جو پڑھنے کے لیے تیار ہو ۔ آپ خود اندازہ کریں ہر طرف لکھنے والے موجود ہیں لیکن پڑھنے والے کم ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پڑھنے والے کیوں کم ہے اور لکھنے والے کیوں زیادہ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے اب تحریروں کا میعار نہیں دیکھا جاتا بلکے تحریر کار کو دیکھا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں دیکھ لے کتابیں بہت سی ہیں۔ ایک لکھاری نے 5،5 کتابیں لکھیں ہوئی ہیں لیکن اس لکھاری کا نام بھی کسی کو پتہ نہیں ہوتا وہ اپنے حلقے میں جانا جاتا ہے بہت کم لکھاری ایسے ہیں جو اچھا لکھتے ہیں جن کی تحریروں کا لوگ انتظار کرتے ہیں۔ لیکن ان کی تحریریں بہت مشکل کے بعد مارکیٹ میں کتابی شکل میں آتی ہیں۔ اس وقت اخبارات ، میگزیں ، رسالے ، ٹی وی ، ریڈیو، وغیرہ جہاں جہاں بھی دیکھا جائیں صرف اور صرف وہی لوگ نظر آتے ہیں جو ان کے اپنے ہوتے ہیں۔ یہاں تو کام کے بدلے کام لیا جاتا ہے۔ میعار نہیں دیکھا جاتا ۔
بھائی ایسی بات نہیں میں اب بھی لکھتا ہوں لیکن کسی کے لیے نہیں اپنے لیے اور وہ سب کچھ میری ڈائریں میں ہے
خرم شہزاد خرم

Share This Post

ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابنِ انشاء

خرم شہزاد خرم کا انتخاب رائے ديں »

ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابنِ انشاء

ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔!
ہم اس پر لکھیں نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں
پیغام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں
اشعار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں
سرکارنہیں
ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے
دل کا جو تمھارے صفحہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!
وہ آج جو بالکل سادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اُس پہ بھی تو ہم نے لکھا تھا۔۔۔۔۔۔
اک نام کبھی۔۔۔۔
پیغام کبھی۔۔۔۔۔
اشعار کبھی۔۔۔۔۔
سرکار کبھی۔۔۔۔
وہ صفحہ تم نے دھو ڈالا۔۔۔
وہ صفحہ بالکل سادہ ہے۔۔۔
اب کاغذ کے اس ٹکرے کو
کیوں لاکر آگےر کھتی ہو۔۔۔۔۔؟
کیوں ،نام ، پیام ، اشعار لکھیں؟
ہم لوگ تو جو سرکار لکھیں۔۔۔۔۔
اک بار لکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔!
ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم اس پر کچھ نہیں لکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابنِ انشاء

Share This Post

جملہ حقوق بحق خرم شہزاد خرم محفوظ ہيں.